کیا آپ ایک ہی واٹس ایپ اکاؤنٹ کو دو مختلف سمارٹ فونز پر بیک وقت استعمال کرنا چاہتے ہیں؟ ماضی میں ایسا کرنا تقریباً ناممکن تھا اور صارفین کو تھرڈ پارٹی ایپس کا سہارا لینا پڑتا تھا جو سیکیورٹی کے لیے انتہائی خطرناک ہو سکتی تھیں۔ لیکن اب واٹس ایپ نے اپنے نئے فیچر کے ذریعے اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیے حل کر دیا ہے۔ اس جدید فیچر کی بدولت آپ بغیر کسی دشواری کے ایک واٹس ایپ دو فونز پر آسانی سے فعال کر سکتے ہیں، چاہے وہ اینڈرائڈ ہو یا آئی فون۔ اس سے آپ کا ڈیٹا محفوظ رہتا ہے اور دونوں ڈیوائسز پر میسجز فوری سنک ہوتے ہیں۔
واٹس ایپ کا یہ نیا نظام ملٹی ڈیوائس ٹیکنالوجی پر مبنی ہے جسے کمپینئن موڈ کہا جاتا ہے۔ اس فیچر کے تحت آپ کا مرکزی واٹس ایپ اکاؤنٹ ایک بنیادی ڈیوائس کے طور پر کام کرتا ہے جبکہ دیگر فونز ذیلی ڈیوائسز کے طور پر منسلک ہو جاتے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اگر آپ کا بنیادی فون بند بھی ہو جائے یا اس پر انٹرنیٹ سروس معطل ہو، تب بھی آپ کا ثانوی فون مکمل طور پر فعال رہے گا اور آپ پیغامات کی آمد و رفت جاری رکھ سکتے ہیں۔
کمپینئن موڈ کے ذریعے آپ کا ڈیٹا مکمل طور پر محفوظ رہتا ہے اور تمام چیٹس خود بخود سنکرونائز ہو جاتی ہیں۔
اپنے ثانوی یا دوسرے سمارٹ فون پر اپنے موجودہ واٹس ایپ کو فعال کرنے کے لیے ذیل میں دیے گئے چند سادہ مراحل پر عمل کریں:
جی ہاں، یہ جدید فیچر مکمل طور پر کراس پلیٹ فارم کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کا بنیادی فون آئی فون ہے تو آپ ثانوی ڈیوائس کے طور پر اینڈرائڈ فون استعمال کر سکتے ہیں، اور اسی طرح اینڈرائڈ صارف بھی آئی فون کو بطور دوسری ڈیوائس جوڑ سکتا ہے۔ دونوں ڈیوائسز کے درمیان چیٹس، میڈیا فائلز اور دیگر معلومات کا تبادلہ نہایت تیزی سے ہوتا ہے۔
بہت سے صارفین کے ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ ایک واٹس ایپ دو فونز پر چلانے سے ان کی پرائیویسی متاثر تو نہیں ہوگی؟ واٹس ایپ کے مطابق تمام منسلک ڈیوائسز پر بھی اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کا نظام یکساں طور پر لاگو رہتا ہے۔ تاہم، سیکیورٹی کے نقطہ نظر سے آپ کو وقتاً فوقتاً اپنے بنیادی فون کی Linked Devices لسٹ کو چیک کرتے رہنا چاہیے تاکہ معلوم ہو سکے کہ کون کون سی ڈیوائسز آپ کے اکاؤنٹ سے متحرک ہیں۔
کیا آپ نے اپنے دوسرے فون پر واٹس ایپ کا یہ فیچر استعمال کیا ہے؟ اپنا تجربہ یا سوالات نیچے تبصروں میں ہمارے ساتھ ضرور شیئر کریں۔









